Search This Blog

Showing posts with label Art & Literature. Show all posts
Showing posts with label Art & Literature. Show all posts

Sunday, November 25, 2018

SHORT STORY-03

SHORT STORY-03: WOH KHUBSURAT THI
                                    AUR KHUBSIRAT BHI

Written By: Aziz Azmi, Israuli, Sarai Mir

  وہ خوبصورت تھی اور خوب سیرت بھی

جامعہ میں ایم اے کا فارم بھر  رہا تھا پیچھے سے آواز آئی اردو کے فارم یہیں ملتے ہیں ایسی خوبصورت آواز کہ کانوں میں رس گھول گئی مڑ کر دیکھا تو وہ فارم لینے والوں کی  بھیڑ میں کہیں کھو گئی لیکن اسکی پر کشش آواز مجھ پر سحر کر گئی فارم جمع کیا کچھ دن کے بعد ٹیسٹ ہوا ایم اے میں ایڈمیشن ہوگیا ایڈمیشن فیس جمع کرکے 10 دن کےلئے گھر چلا گیا گھر سے واپس آیا دوسرے دن یونیوسٹی پہونچا پروفیسر خالد محمود صاحب کی اردو کی کلاس تھی انکی عادت تھی کہ وہ کلاس میں آتے ہی دوازہ بند کرتے پھر لکچر شروع کرتے تھوڑی دیر بعد دروازہ پر دستک ہوئی سر نے لکچر دیتے ہوئے دروازہ کھولا’   ،May i come in sir پھر وہی پرکشش خوبصورت آواز میری سماعت کے تار چھیڑ گئی جس کے بول کی مٹھاس اب تک کانوں میں شہد کی  طرح موجود تھی وہ معذرت کرتے ہوئے کلاس میں بیٹھ گئی ایسا لگا جیسے پورا کلاس روشنی سے بھر گیا وہ بلا کی خوبصورت تھی غزالی آنکھیں ، مخملی پلکیں ، ریشمی زلفیں، چمکتا چہرہ جیسے ستاروں  کے درمیان چاند ہو وہ سر سے پاؤں تک حسن کا لا زوال شاہکار تھی  اسکے حسن میں ایسا ڈوبا کہ ڈاکٹر محمود صاحب نثر پڑھاتے رہے میں غزل لکھتا رہا، اسکے حسن کا نہ صرف میرا کلاس بلکہ پورا ڈیپارمنٹ شیدائی تھا دوسری کلاسیں بھلے ہی چھوٹ جائیں لیکن اردو کلاس کبھی مس نہیں ہوتی اللہ نے اسکو حسن کے ساتھ ساتھ ذہانت اور قابلیت سے بھی نوازا تھا ،غالب ، مومن ، حالی ، ذوق جیسے شعراء کا بیشتر کلام اسے یاد تھے اپنے یاقوتی ہونٹوں سے جب کبھی شعر گنگناتی تو اسکی خوبصورت آواز پر پوری فضا رقص کرتی میں اسکے حسن پرمائل توتھا ہی اسکی قابلیت کا بھی قائل ہو گیا لیکن نہ جانے کیوں وہ ہر وقت خاموش رہتی فاخرہ باجی کے ساتھ صبح آتی اور انہیں کے ساتھ واپس چلی جاتی انکے علاوہ نہ اسکی کوئی سہیلی تھی نہ کوئی دوست وہ اتنی کم گو تھی کہ ضروت کے وقت بھی کم ہی بولتی ہروقت کھوئی کھوئی دنیا سے بےخبررہتی خالی گھنٹیوں میں ہم سب کینٹین جاتے تو وہ لائبریری چلی جاتی باخدا علم حاصل کرنے کا اس قدر شوق میں نے کم ہی لوگوں میں دیکھا ہر روز بلا ناغہ  دل میں حسرت لئے کالج آتا کہ کاش کسی دن وہ مجھ سے مخاطب ہو اور اورمیں اپنا دل نکال کر اسکے قدموں میں رکھ دوں لیکن پورے سال میری طرف کیا پورے کالج میں کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا اسکی عفت نظری نے میرے دل میں اسکی عزت اور عظمت کو اور بڑھا دیا دانستہ طور پرکسی کی طرف تونہیں دیکھتی لیکن اکثرمیرے سلام کا جواب دیتے وقت اسکی ریشمی پلکیں میری طرف اٹھ جاتیں میں اکثر اپنے آپ سے سوال کرتا پتہ نہیں وہ میری حسرت بھری نگاہ اور احساس کو پڑھتی بھی ہے یا نہیں کیا وہ محبت نہیں سمجھتی اسکے سینے میں بھی تو آخر دل ہے کیا وہ کبھی مجھ سے بات کرے گی اگر کسی دن مخاطب ہوئی تو بلا تاخیر  اپنے پیار کا اظہار  کر ہی دونگا اسی سوچ اورکشمکش میں پورا سال ختم ہوگیا لیکن وہ کبھی بھول کر بھی مخاطب نہیں ہوئی امتحان شروع ہوگئے میں دیگر ساتھیوں کی طرح بہت محنتی تو نہیں تھا گھنٹوں بیٹھ کر پڑھنے کی عادت تو کبھی نہیں رہی لیکن  لکھنے میں مجھے بڑا مزا آتا اور یہی وجہ تھی کہ امتحان کے زمانے میں نوٹس بنانے سے پہلے ہی میری نوٹس تیار رہتی استاد جتنا کلاس میں پڑھاتے اسکو لکھ لیتا اس طرح امتحان تیاری کے لئے ایک مکمل نوٹس میرے پاس موجود ہوتی اور یہ بات فائزہ کو معلوم تھی اتفاق سے ایک دن میں کالج لیٹ پہونچا اور اسی دن وہ ڈیپارٹمنٹ کے سامنے بیٹھی میرا انتظار کر رہی تھی میں کالج آیا اسے سلام کرتے ہوئے ڈاکٹر حلیم صاحب کے چیمبر کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اس نے مجھے آواز دی عزیز سنو میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی اسکے مرمری لہجے سے نکلا ہوا لفظ عزیز اور بھی عزیز ہو گیا  پل بھرکے لئے میں حسین خیالوں میں ڈوب گیا جان بوجھ کر نظر انداز کیا کہ وہ اپنے یا قوتی ہونٹوں سے میرا نام لیتی رہے اور میں سنتا رہوں چیمبر سے نکلتے ہوئے کسی لڑکے نے مجھے اشارہ کیا کہ تمھیں کوئی بلا رہا ہے تب تک وہ خود ہی میرے پاس آگئی عزیز کب سے بلا رہی ہوں سن نہیں رہے ہو اوہ سوری نہیں سنا کہو کیسے یاد کیا جیسے میری آواز حلق میں اٹک گئی ہو قبل اس کے کہ میں اس سے کچھ کہہ پاتا وہ دوٹوک لفطوں میں وضاحت کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئی عزیز مجھےتمہاری نوٹس چائیے جو تم نے تیار کر رکھے ہیں لیکن پلیز اپنے دل میں کوئی خوش فہمی مت رکھنا کہ میں نے تم سےبات کی کتابوں کے ساتھ ساتھ میں نے تمہاری خاموش نگاہوں کو بھی اکثر پڑھا ہے اسکی قدر کرتی ہوں لیکن  یہ ایک تلخ حقیقت ہے محبت ہوس کے سوا کچھ نہیں سچی مجبت پہلے نکاح کرتی ہے پھر محبت  اسکول ، کالج ، آفس اور سڑکوں  پر پلنے والی محبت کی میرے نزدیک کوئی حیثیت نہیں بڑے بے باک انداز میں محبت کی جگہ اپنے خیالات اور احساسات کو  خوبصورت طریقے سے میرے سینے میں اتار کر چلی گئی ایسا لگا جیسے اس نے میری آنکھیں ہی نہیں میری سوچ کو پڑھ رکھا ہو میں اسکا مرہمی لہجہ  اور اپنی مایوسی دل میں لیئے بیٹھا سوچتا رہا کہ اتنی چھوٹی سی عمر اتنا تلخ تجربہ اکثر ایسے خوبصورت  اور حسین چہرے تو بڑے مغرور اور دل فریب ہوا کرتے ہیں لیکن اسکی  سادگی ، شرافت ، پرعزم لہجہ بتا رہا ہے یا تو کسی اعلی اور شریف خاندان سے ہے یا پھر کسی بدترین سانحے نے اسکے دل میں مردوں کے تیئں نفرت اور تلخی پیدا کردی ہے لیکن محبت تو پتھروں میں بھی جان ڈال دیتی ہے اپنی محبت  ثابت کر کے رہونگا  وہ اسکا عزم ہے یہ میرا عزم ہے-

دوسرے دن وہ میری نوٹ بک واپس کرنے آئی بُک واپس کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے جانے لگی میں نے اس بلایا اور بےجھجک کہ دیا کہ فائزہ تم جو بھی سمجھو پرمیں تم سے محبت کرتا ہوں  تھوڑی دیر وہ خوموش رہی اور طنزیہ لہجے میں کہا جاؤ عزیز میرے پیچھے اپنا وقت اور مستقبل برباد مت کرو میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا میں کسی محبت کو نہیں جانتی میرا اس سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں محبت کیا ہے میں تمہیں بتا چکی ہوں جو تم محبت میں چاہتے ہو وہ میں کر نہیں سکتی اور جو میں چاہتی ہوں وہ تم کر  نہیں سکتے عارضی اور تفریحی محبت کے لئے میرے سینےمیں کوئی جگہ نہیں ، فائزہ تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو میری محبت کسی مقصد کے لئے نہیں مردوں کی محبت کو میں اچھی طرح  جانتی ہوں کیا تمہارا معاشرہ مجھ  جیسی لڑکیوں کو اپنے گھر کی بہو بنائے گا ہاں میں تم سے محبت کرتی ہوں ٹوٹ کر محبت کرتی ہوں کیا تمہارے اندر مجھ سے شادی کرنے کی ہمت ہے کیا تمہاری سچی محبت میں اتنی طاقت ہے ۔۔ فائزہ کیا مطلب تمہارا تم تو ایک شریف اور اچھے گھرانے سے لگ رہی ہو ہاں میں بہت شریف ہوں اور پاک دامن بھی  لیکن میرا گھرانہ اچھا نہیں میں کسی اعلی خاندان سے نہیں میں اس راز کو بتانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن تمہاری روایتی محبت اور مصنوعی دیوانگی کے سامنے اب حقیقت کو واضح کر دینا بہت  ضروری ہے عزیز میں ایک طوائف کی بیٹی ہوں اور مجھ جیسی لڑکیوں کی اس سماج میں کوئی جگہ نہیں اس ماں کے لئے جس نے مجھے اس مقام پہ لا کھڑا کیا اسکو ایسے برے لفظ سے پکارنے کی مجھ میں ہمت تو نہیں لیکن یہی حقیقت ہے میری بے بس ماں چاہے جیسی رہی ہو لیکن وہ ایک باہمت عورت تھی مجھے اس ناپاک زندگی سے بچانے کے لئے نہ جانے کتنےسفید پوش لوگوں سے بھیک مانگا لیکن ان مردو ں کی بھیڑ میں ماں کے جسم کو نوچنے والے بھیڑئیے تو ملے لیکن اس بھیڑ میں کوئی ایک اعلی ظرف نہیں ملا جو مجھے اپناتا یا میری ماں کو کوٹھے سے نکال کر روشنی کی دنیا میں لاتا ، کوئی اعلی ظرف ملا تو وہ فاخرہ نامی ایک عورت تھی جو فرشتے کی طرح محلے کی اس دوکان پر مل گئیں جہاں میں روز  ٹافیاں لینے جایا کرتی تھی میری معصومیت دیکھ کر پوچھ بیٹھیں کہ کہاں رہتی ہو میں نے ان سے بتایا تو وہ سمجھ گئیں ایک دن میری اماں سے ملیں اور مجھے پڑھانے کی بات کیں تو میری اماں خوشی سے رو پڑیں انکی پتھرائی آنکھوں کو روشنی مل گئی بالآخر فاخرہ باجی کی مدد سے رام پور نسواں اسکول میں میرا داخلہ ہوگیا اور وہی میری اتالیق تھیں معاشرے کے خوف اور میری عزت کی خاطر اماں مجھ سے ملنے نہیں آتیں پورے سال میں صرف دو بار اسکول آتیں ایک بار 6 مہینے کی فیس جمع کر کے چلی جاتیں اور پھر 6 مہینے اپنا جسم بیچتیں اور پھر اگلے 6 مہینے کی فیس جمع کرنے کے لئے آتیں - جب وہ مجھ سے ملنے آتیں تومیرے سامنے نظریں جھکائے ڈری سہمی سی نظر آتیں میں اپنی بے بسی اور ما ں کے حال پر خون کے آنسو روتی تھوڑا شعور ہوا تو ماں کو بہت سمجھایا لیکن انکا اب اس کالی دنیا سے نکلنا بہت مشکل تھا فاخرہ باجی جیسی پاکدامن اور مخلص عورت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا وہ میری ماں کو اسکول کے بچوں کے سامنے اپنی بہن کہتیں فاخرہ باجی میری دوسری ماں تھیں ۔ میرا کوئی گھر نہیں تھا اسکول اور دوستوں کی نظر میں میری عزت کو بحال رکھنے کی خاطر سال میں جب چھٹی ہوتی تو وہ مجھے اپنے گھر لے جاتیں میں ایک مہینہ وہیں رہتی  انکے والد محترم بڑے مذہبی تھے مجھے بیٹی کی طرح مانتے جب تک میں وہاں رہتی معا شرے کے خوف سے میری اماں مجھ سے ملنے نہیں آتیں میں ایک مہینے بعد جب واپس مدرسہ چلی جاتی تو فیس جمع کرنے آتیں تو وہیں ملاقات ہوتی میں کلاس کے آخری سال میں تھی 6 مہینہ گزر گیا اما فیس جمع کرنے نہیں آئیں مہینوں گزر گیا کوئی خبر نہیں فاخرہ باجی کو فون کرکے پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ 3 مہینہ پہلے انکا رامپور میں بس حادثے میں انتقال ہوگیا اتفاق سے  وہ منحوس حادثہ میرے اسکول  گیٹ کے سامنے ہی ہوا تھا پر مجھ بدنصیب کو کیا پتہ کہ میری ماں نے آخری سانس میرے اسکول  گیٹ کے سامنے لی اللہ کا  شکر ادا کیا کہ انکو اس گھناونی دنیا سے آذادی مل گئی شاید میری بہترین پرورش ، گناہ کی دنیا سے محفوظ  رکھنے اور میری تعلیم کے تئیں انکی  قربانی کے نتیجہ میں اللہ انکی مغفرت فرما دے  - ماں کے مرنے کی خبر سن کر بھی معاشرے کے خوف سے  دوستوں کے سامنے اپنے غم اور  آنسو کو پی کر مسکراتی رہی روتی بھی تو کس سے روتی جاتی بھی تو کہاں جاتی نہ تو میرا کوئی خاندان تھا نہ کوئی گھر فاخرہ باجی بھی دوسال پہلے فارغ ہوکر یہاں سے جا چکی تھیں میرا اسکول ہی میری کل کائنات اور فاخرہ باجی ہی میرا آخری سہارا بلآخر انھوں نے ہی میرا آنسو پوچھا مدرسہ آئیں اگلے 6 مہنے کی اسکول کی فیس جمع کی اسکول کے فراغت کے بعد اپنے گھر لے گئیں ۔ فاخرہ باجی کا دیندار گھرانہ مجھے بیٹی کی طرح مانتا تھا معاشرہ لاکھ برا ہو پر آج بھی نیک لوگوں کی اس دنیا میں کمی نہیں فاخرہ باجی کے ابا نے ذاکر حسین کالج میں بی اے میں ایڈ میشن کرا دیا اور ایم اے کے لئے جامعہ  بھیج دیا اور یہاں تم جیسے دیوانے سے ملاقات ہوگئی عزیزمجھ سے کسی خیالی امید کے بجائے یہ بات اپنے دامن میں باندھ لو فاخرہ باجی کے دیندار گھرانے کی عظمت میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے  آج کے بعد میری اور تمہاری کوئی بات نہیں ہوگی اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو اس محبت کی قسم میرے اس راز کو راز رکھنا اور اگر اپنانا چاہتے ہو تو باوقار طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ فاخرہ باجی کے گھر آنا اور فاخرہ باجی کے ابا سے میرا ہاتھ مانگ لینا –
وہ بڑے بے باک انداز میں میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے درد کو میری آنکھوں میں انڈیل کر چلی گئی اسکے بے باک سوالوں کا نہ تو مرے پاس کوئی جواب تھا  اور نہ سچی محبت ثابت کرنے کی ہمت  ، ذات پات ، حسب و نسب کے فرسودہ رسم و رواج میں بندھا میرا گھرانہ نہ تو فائزہ کو قبول کرتا اور نہ گھر سے بغاوت کرنے کی میرے اندر جرآت  گھنٹوں وہیں بیٹھا اپنی جھوٹی محبت  اور پشیمانی پر ماتم کرتا رہا اور اسکی عفت اور عظمت کو سلام کرتا رہا میں اپنی ہی نظروں میں اس قدر چھوٹا ہوا کہ دوبارہ اس سے نظر ملانے کی ہمت نہ رہی لیکن میرے دل میں  اسکی عزت و عظمت اور بڑھ گئی امتحان ختم ہوگیا میں گھر چلا گیا ۔ والد صاحب کی نوکری چھوٹ گئی میرے اوپر زمہ داری آگئی دلی آکر نوکری ڈاٹ کام پرسی وی پوسٹ کی اور ایرانی کلچر ہاوس کی لائبریری میں وقتی طور کام  کرنے لگا کچھ ہی دن بعد نوکری ڈاٹ کام سے فون آیا کہ سعودی عرب  کا ویزہ ہے اگر جانا چاہتے ہیں تو پاسپورٹ لیکر آجاو موقع کو غنیمت سمجھا اور سعودی عرب چلا گیا 5 سال بعد سعودی عرب سے واپس آیا لکھنو ائیر پورٹ سے باہر نکلا  ٹیکسی  لیکر ہوٹل جا رہا تھا کہ راستے میں میری نظر ایک کار پر پڑی  کالا چشمہ لگائے ڈرائیو کرنے والی عورت  ہو بہو فائزہ کی طرح تھی لیکن فائزہ تو دلہی میں رہتی تھی یہاں کیسے دل نہیں مانا اگلی ریڈ لائیٹ پر کار رکی جلدی سے اتر کر کار کے پاس گیا کار کے بند شیشے کے باہر سے ہاتھ ہلا کر سلام کیا وہ دیکھتے ہی پہچان گئی جلدی سے کار سے باہر نکلی علیک سلیک ہوئی خیریت دریافت کی مجھے دیکھ کر وہ بے انتہا حیرت میں تھی کہ اسی لمحے گرین لائیٹ ہو گئی جلدی سے اس نے کار کو سائیڈ لگایا اس سے بتایا کہ 5 سال بعد سعودی سے آرہاہوں گھر جارہا ہوں اور کوئی ہے ساتھ میں نہیں اکیلا ہوں تو گھر چلو آج یہیں رکو کل چلے جانا ارے نہیں ایسے کیسے گھر پہ لوگ انتظار کر رہے ہونگے  پھر کبھی آونگا نہیں تمہیں آج رکنا ہوگا گھبراو مت میرا یہاں اپنا گھر ہے ایک بیٹی ہے میرے شوہر تمارے دوستوں میں سے ہیں میرے دوست کیسے ۔۔۔۔  چلو سب بتاتی ہوں تم ہمیشہ جلدی میں رہتے ہو اتنی جلدی کیا میرے شوہر تم سے ملکر بہت خوش ہونگے باتوں باتوں میں میرا سامان ٹیکسی سے نکلواکر اپنی کار میں رکھوایا اور مجھے لیکر گھر چلی گئی عزیز میں بیٹی کو اسکول چھوڑ کر یونیورسٹی جارہی تھی لیکن آج نہیں جاونگی ، تم میرے مہمان ہو برسو ں بعد اچانک ایسے ملے ہو ، اس دن کی طرح آج بھی وہی بولتی رہی میں سنتا رہا اس سے ملکر ایسا لگا میں آج بھی شرمندہ ہوں ۔ جب وہ چپ ہوئی تو میں نے پوچھا لکھنئو کیسے مسکراتے ہوئے بولی عزیز پھر تم کو ایک اور کہانی سننی پڑے گی سناو میری قسمت میں توکہانی سننا ہی لکھا ہے عزیز قسمت روایتوں اور رواجوں سے نہیں اسکو بدلنے سے بدلتی ہے تمہارے اندر جزبہ تو تھا لیکن ہمت نہیں  خیر جہاں سے تم چھوڑے تھے وہیں سے شروع کرتی ہوں ایم اے کے امتحان کے بعد میں نے تمہارا بہت انتظار کیا کہ اگر تم مجھ سے شادی کر لوگے تو میں اپنا گھر بسا کر نئی زندگی کی شروعات کر لونگی فاخرہ باجی کا گھر میرا گھر ہی تھا کوئی پریشانی تو نہیں تھی لیکن میں اپنے آپکو ایک بوجھ سمجھتی تھی سوچا کوئی چھوٹی موٹی نوکری کرکے پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کرا لونگی لیکن میری خوبصورتی میری جان کی وبال تھی جہاں جاتی لوگ بری نظر سے دیکھتے فاخرہ باجی کے ابا بھی چاہتے تھے میرا کہیں نکاح ہو جائے لیکن میری خوبصورتی کے باوجود کوئی رشتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا فاخرہ باجی کے ابا کی طرح اعلی ظرف لوگ کم ہی ہیں ان کے سارے رشتہ دار مجھ کو جانتے تھے کچھ لوگ تو میری وجہ سے انکے یہاں آنا جانا بھی کم کر دیئے تھے ۔ اللہ سے دن رات دعاء کرتی اللہ کہیں میرا نکاح ہو جائے اللہ نے میری یہ بھی دعاء قبول کر لی  تمہارا کلاس میٹ قمر بھی تمہاری طرح مجھے آفر کیا تھا وہ بھی اچھا لڑکا تھا اس سے بھی میں نے وہی باتیں کی جو تم سے کی تھی کچھ دن بعد وہ اپنے والد کو لیکر گھر آیا اسکے والد بھی صوم وصلاۃ کے پابند انتہائی شریف آدمی ہیں فاخرہ باجی کے ابا کو بہت پسند آئے اور رشتہ طے ہو گیا دس دن کے بعد نکاح ہو گیا میں قمرکے ساتھ رہنے لگی بی ایڈ کرنے کے بعد قمر کو ہمدرد پبلک اسکول میں نوکری مل گئی ذاکر نگر میں کرائے کا مکان لے لیا قمر کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا والد صاحب اکیلے چچا کے یہاں رہتے تھے توان کو بھی آعظم گڈھ سے یہیں بلا لیا قمر کے والد کی اجازت سے میں نے بھی پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کرا لیا الحمداللہ دو سال بعد میرا جے آر ایف نکل گیا میں بھی قمر کا ہاتھ بٹانے لگی 3 سال میں پی ایچ ڈی جمع کر دی لکھنئو یونیورسٹی میں اردو لکچرر کی پوسٹ خالی تھی میں نے اپلائی کیا اور ہوگیا قمر بھی میری وجہ سے ہمدرد پبلک اسکول چھوڑ کرلکھنئو آگئے انکی بھی پی ایچ ڈی مکمل تھی خواجہ غریب نواز یونیورسٹی میں وہ بھی بطور گیسٹ ٹیچر پڑھا رہے ہیں  ..

فاخرہ باجی کہاں ہیں انکے ابا کیسے ہیں .... دلی میں ہی ہیں جاتی ہو ان سے ملنے اتنے اعلی ظرف انسان کو کیسے بھول سکتی ہوں آج میں جو کچھ بھی ہوں انہیں کی مرہون منت تو ہوں  وہ میرا گھر ہے کیوں نہیں جاونگی بلکہ فاخرہ باجی کے ابا کو یہیں لے آتی ہوں قمر کے ابا اور انکے مزاج ایک جیسے ہیں دونوں میں بڑے اچھے تعلقات بھی ہیں ابھی پچھلے ہفتہ تو دلی گئے ہیں فاخرہ باجی دلی یونیرسٹی میں پرفیسر ہیں عزیز میں ان لوگوں کو اپنی پلکوں پر رکھتی ہوں اور الحمدللہ میرے سسر اور شوہر بھی انکو بڑی عزت دیتے ہیں کاش اللہ دنیا کے تمام لوگوں کو ایسا ہی بنادے  ، الحمداللہ میں اپنی زندگی سے اب بہت خوش ہوں آج تم مل گئے تو بہت کچھ تازہ ہو گیا ایک بج گیا قمر بھی آتے ہی ہونگے عفت کو اسکول سے لینے چلا جاتے ہیں اس لئے تھوڑا لیٹ ہو جاتے ہیں میرا کام عفت کو اسکول چھوڑنا اور انکا کام لانا یہی زنگی کی روٹین ہے ۔۔
تم نے تو اپنے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں میں ہی بو لے جا رہی ہوں پڑھائی کیوں چھوڑ دی تم اس دن کے بعد ایسا غائب ہوئے جیسے گھدھے کے سر سے سینگ جب میں نے تمہیں بہت دنوں تک نہیں دیکھا تو اپنے آپ سے بہت شرمندہ ہوئی اپنے آپ کو کوستی رہی کہ شاید میری وجہ سے تم یونیورسٹی کو خیر باد کہ دیا  ۔۔ ہاں فائزہ شرمندہ ہی نہیں بالکہ اپنی نظروں میں ہی گر گیا تم سے نظر ملانے کی ہمت نہیں تھی کہ ہم لڑکے صرف سچی محبت کا ڈھونگ رچتے ہیں جب ثابت کرنا ہوتا یے تو ہار جاتے ہیں یونیورسٹی چھوڑنے کی وجہ یہ تو نہیں میرے معاشی حالات کچھ ایسے ہوگئے کہ چھوڑنا پڑا  شادی ہو گئی تھی زمہ داری بڑھ گئی تھی ابا کی نوکری چھوٹ گئ آنا فانا کچھ سمجھ میں نہیں آیا سعودی عرب چلا گیا تب سے وہیں ہوں ہر حال میں اللہ کا شکر ہے  تب تک دروازہ ناک ہوا لگتا ہے قمر آگئے فائزہ نے دروازہ کھولا قمر مجھے دیکھ کر چیخ پڑا ارے عزیز میرے دوست آج برسوں بعد دیکھ کر دل خوش ہو گیا کیسے آنا ہوا بس اچانک فائزہ سے ملاقات ہوئی اور تمہاری یہ خوب سیرت بیوی نے جانے نہیں دیا یہ کہ کر مرے پیر باندھ دیئے کہ قمر سے نہیں ملوگے تو بغیر ملے کیسے چلا جاتا ہے ……. بہت شکریہ دوست بہت اچھا لگا ۔۔ قمر تم کو دیکھ کر مجھے آج فخر ہو رہا ہے کہ تمہاری سچی محبت اور اعلی ظرفی نے ایک نسل کو سنوار دیا اللہ ہر عورت کو فائزہ جیسی پاک دامن اور تم جیسا اعلی ظرف بنائے ۔ اچھا فائزہ اب اجازت دو مجھے بھی گھر جانا ہے میرے بیوی بچے بھی 5 سال سے میرا انتظار کر رہے ہیں زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی قمر نے مجھے بس اسٹینڈ چھوڑا اس طرح میری محبت اور میرے سفر کا آج اختتام ہوگیا-
Note: This Short story has been written by One of my friend, Mr. Aziz Azmi. This is a touching heart story to me, that's why I shared this story here in my Blog with Writer's Permission....... Thank You.

Wednesday, November 21, 2018

SHORT STORY-02

SHORT STORY-02: HASRAT LIYE MAR GAYI

Written By: Aziz Azmi, Israuli, Sarai Mir

 

 حسرت لئے مر گئی

کل اماں کی آنکھ چیک کروانے ڈاکٹر راشد صاحب کے دوا خانے گیا ، آنکھ  والے ڈاکٹر ابھی آئے نہیں تھے اس لئے اماں کو بنچ پر بیٹھا کرباہر چلا گیا ، تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو دیکھا کہ اماں کے پاس بیٹھی ایک عورت زاروقطار رو رہی ہے ، مجھے دیکھ کر خاموش تو ہوگئی ، لیکن آنسووں سے بھیگی اس کی آنکھوں میں اتنا درد اور سسکیوں میں اس قدر کرب تھا کہ اگر میں اس سے صرف یہ پوچھ بیٹھتا کہ آپ کون ہیں تو اسکا ضبط ٹوٹ جاتا اس کا صبر جواب دے جاتا اور اسکی آنکھیں پھر سے برس پڑتیں ، قبل اسکے کہ میں اماں سے کچھ پوچھ پاتا ، نرس نے آواز دی کہ آپکا نمبر آگیا ، اماں کو ڈاکٹر کو دکھایا دوا لی اور ہ دوا خانے سے باہر نکل گیا ، اماں کو جاتے دیکھ کر اسکی آنکھیں پھر چھلک گئیں ، ایسا لگا جیسے اماں سے وہ کچھ ایسا مانگ رہی ہو جو اماں کے بس میں نہیں ، اماں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے اپنی نم آنکھوں سے اس کےسر پر ہاتھ رکھتے ، صبر کی تلقین کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئیں ۔
اولاد سے بچھڑنے کا درد کیا ہوتا ہے یہ دیکھ کر اماں اپنی آنکھ کے درد سے کہیں زیادہ اس عورت کے درد سے پریشان تھیں ، میں نے اماں سے پوچھا کہ یہ کون تھیں ، کہنے لگیں یہ  جاوید کی پہلی بیوی تھی جس کو اس نے دس سال پہلے صرف اس بنا پر چھوڑ دیا تھا کہ خوبصورت نہیں ہے ایسی شریف اور با اخلاق بیویاں کس کو کہاں نصیب ، لیکن اس کا نصیب پھوٹا تھا کہ جاوید جیسے کم عقل اور احساس سے عاری شخص سے اسکی شادی ہو گئی ۔

کچھ دنوں بعد پھر اسکی دوسری شادی ہوئی تو اس سے کوئی اولاد نہیں ، آج مجھے دیکھ کر تڑپ اٹھی اور ضد کرنے لگی اماں مجھے میری بیٹی سے ایک بار ملا دیں ، دس سال سے میں نے اسے دیکھا نہیں حجن اماں اس کی ایک جھلک پانے کے لئے میری آنکھیں ترس گئیں ، پل پل اس کے لئے مرتی ہوں ، جب سے یہ سنا کہ اسکی نئی امی نے پڑھائی چھڑا کر گھر کے کام میں لگا دیا  ، اس سے دن رات کام بھی لیتی ہیں اسکو مارتی بھی ہیں ، جاوید سے شکایت بھی کرتی ہیں تو کلیجہ پھٹ گیا ، میری بچی کیسے یہ دکھ برداشت کرتی ہوگی ، کیسے سہتی ہوگی ، رات میں روتی ہوگی تو مجھے یاد کرتی ہوگی ، میں اسکو اپنی باہوں پہ سلاتی تھی آج سنا ہے کہ اکثر بغیر بستر کے سو جاتی ہے ہائے میری بیٹی ، ہائے رے میری بد نصیبی ، کی ماں ہوتے ہوئے بھی ممتا کو ترس گئی ۔

اماں کیا وہ مجھے یاد کرتی ہے ، کیا وہ بھی میرے لئے روتی ہے ، ہاں بیٹا وہ تمھیں بہت یاد کرتی ہے میرے گھر آتی ہے تو اکثر روتی ہے کہتی ہے کاش میری امی کہیں مل جاتی تو انکے آنچل میں چھپ جاتی ، انکی آغوش سے لپٹ جاتی ، اپنا سارا دکھڑا سنا کراتنا روتی کہ سارے غموں کو دھو لیتی …  بس کر یئے اماں اب بس…  نہیں سنا جاتا ، اسکے دکھ ، اسکی باتیں اس سے زیادہ  نہیں سن سکتی میرا کلیجہ پھٹ جائے گا ، بس اماں  ایک بار مجھے میری بیٹی سے ملا دیں ، میں آپکا احسان کبھی نہیں بھولونگی ، یہ کہتے ہوئے وہ بے تہاشہ رو رہی تھی ، اس کا درد مجھ سے بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا ، لیکن میں مجبور تھی کیسے ملاتی ، فائزہ کو کیسے یہاں بلاتی ، جاوید کو پتہ چلتا تو آسمان سر پر اٹھا لیتا ، ایسے خبت الحواس کے منھ کون لگتا-

طلاق کے بعد جب وہ اپنے گھر جانے لگی تو اس بے مروت  نے اس کا ہاتھ مروڑ کر بیٹی چھین لی تھی اور وہ روتی ، بلکتی ، چیختی ، چلاتی چلی گئی اور تب سے آج تک اس نے اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا جاوید اس قدر سخت دل اور بے رحم کہ آج تک کبھی اس نے فائزہ کو اسکے ننیہال تک نہیں بھیجا ، اسکے نانا اور ماما نا چاہتے ہوئے بھی فائزہ کو کئی بار لینے آئے لیکن اس بے مروت نے انھیں فائزہ کو دینا تو دور ملنے تک نہیں دیا وہ غریب بیچارے ہار گئے اب تو آتے بھی نہیں ۔

اماں سے اس بے بس ماں کی فریاد اور دکھ سن کر میں بھی بڑا دکھی ہوا ، اماں سچ کہتی ہیں باپ کے دل میں اولاد کی محبت ماں کی وجہ سے ہے ، اگر ماں نہیں تو دوسری شادی کے بعد باپ کی محبت پہلی اولاد کے تئیں پھیکی اور ماند پڑ جاتی ہے ۔
میں کچھ دنوں بعد چھٹی گزار کر سعودی عرب واپس چلا گیا ، لیکن اکثر اس لاچار ، بے بس ، بدنصیب ماں کے بارے میں سوچتا رہتا کہ پتا نہیں بچاری کیسے اپنی بیٹی سے یوں بچھڑ کر دن ، رات  گزارتی ہوگی ، کس اذیت سے دوچار ہوتی ہوگی ، اماں کہ رہی تھیں دوسری شادی کے بعد اس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ، اس کا دوسرا شوہر ، پہلے والے سے بھی زیادہ نالائق اور بد تمیز ہے ، جاوید تو بد ماغ اور جاہل تھا یہ تو شرابی کبابی بھی ہے ، رات کو شراب پی کر آتا ہے تو بیچاری پر قہر ڈھاتا ہے ، کبھی کبھی تو اس قدر مارتا ہے کہ کئ دن پستر سے اٹھ نہیں پاتی ، لیکن ماں ، باپ کی عزت اپنی قسمت ، خدا کے فیصلے پر صبر کا گھونٹ پی کر وقت گزارتی ہے ، کسی سے شکایت کرنا تو دور اپنے رب سے بھی شکایت نہیں کرتی کہ جب اللہ نے میرے مقدر میں یہی لکھا ہے تو کس سے شکایت کروں ، کہاں جاوں ، میاں کے گھر سے نکالی گئی عورت کا نہ کوئی گھر ہوتا ہے نہ کوئی مقام اب  یہی میرا گھر یہی میرا ٹھکانہ ہے ۔
چاہے میرا اللہ جس حال میں رکھے ۔

گھر پرجب فون کرتا تو سوچتا کہ کسی دن  اماں سے اس کے بارے میں پو چھونگا ، لیکن سسرال سے لیکر میکے تک  بیگم کی اتنی لمبی بات  کہ بیگم کی باتوں میں ہی الجھ  کر رہ جاتا اماں سے اسکے بارے میں پوچھنا ہی  بھول جاتا ۔ آج اتفاق سے فون کیا تو میڈم کچن میں تھیں آٹا گوندھے ہوئے ہاتھ سے فون اٹھانا مشکل تھا تو اماں نے ہی فون اٹھا لیا ، سلام کرتے ہی اماں سے پہلے یہی پوچھ بیٹھا کہ جاوید کی پہلی بیوی سے کبھی بات ہوتی ہے کیسے ہے بیچاری - اماں پل بھر کے لئے تو خاموش ہو گئیں پھر بڑے مغموم لہجے میں بولیں کہ بیٹا اس کا تو کچھ دن پہلے انتقال ہو گیا ، انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔

یہ سنتے ہی جیسے آواز حلق میں اٹک گئی ۔ تھوڑی دیرتک فون اٹھائے کھڑا رہا جیسے بولنے کے لئے اب کچھ بچا نہیں ۔
’’ دعاء پڑھتے ہوئے اماں سے کہا ، اللہ اسکی روح کو سکون بخشے!  اچھا  ہوا بیچاری مر گئی ‘‘اسکا شوہر صبح و شام اس کو مارتا تھا اس پر ظلم کرتا تھا ۔ کب تک سہتی ؟ کہاں تک برداشت کرتی ؟ ابھی کچھ دن پہلے آپ نے ہی تو کہا تھا کہ ایک دن ہاسپیٹل سے اسکا فون آیا تو ملنے گئیں بہت اداس تھی ، ہاسپیٹل آنے کی وجہ پوچھنے پر بتایا کہ ’’آ ج پھر شوہر نے بہت  مارا ہے۔ اس کی آنکھ کے گرد گہرا نیلا حلقہ بن گیا  تھا، چہرے پر انگلیوں کے نشان تھے۔ وہ بالکل مرجھائی ہوئی تھی ، اس کی شکل سے لگتا تھا اب ٹھیک نہیں ہوگی کتنی حسرتوں سے اس کی ماں نے بیاہ کے دیا تھا ، کہ پہلا شوہر تو نالائق نکلا یہ غریب ہی صحیح لیکن میری بیٹی کا خیال تورکھے گا ۔ اسکی ماں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اسکو بھی جہیز دیا تھا ، لیکن افسوس کہ جاوید احساس کمتری کا شکار تھا یہ تو احساس سے ہی عاری تھا ۔

اماں کیا فائزہ اس کی میت پر گئ تھی یا جاوید اس وقت بھی نہیں جانے دیا ، نہیں بیٹا اس کے مرنے کی خبر سن کر جب فائزہ رونے لگیں تو جاوید بھی رو پڑا ، بہت پچھتایا ، بہت شرمندہ ہوا  فورا گاڑی منگوایا  فائزہ کو لیکر ہم سب اس کے گھر گئے ، دس سال بعد ماں کو مردہ دیکھ کر فائزہ بے حوش ہوگئ ، ماں بیٹی کو  دیکھنے کی حسرت لئے اس دنیا سے رخصت ہو گئی  لیکن جیتے جی نہ تو فائزہ کو ماں کا دیدار نصیب ہوا اور نا ماں کو بیٹی کا ۔                                                          

اے لوگو ! طلاق ایک قبیح فعل ہے اس سے بچو ، ایک دوسرے کے ساتھ محبت ، حسن سلوک ، صلح و آشتی  کے ساتھ زندگی  گزارو ، اور اگر یہ ایک دوسرے کو سمجھنا ممکن نہ ہو تو سمجھو تے کے ساتھ زندگی گزار دو لیکن اپنی عورتوں کو طلاق مت دو ۔۔سن پر ظلم مت کرو ،  اپنے بچوں کو سوتیلے پن اور ظلم میں دھکیل کر انکی زندگیوں کو دشوار نہ بناؤ۔۔

اللہ ہمیں ہدایت دے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق دے کہ کسی عورت ، کسی اولاد کو اس درد و کرب سے نا گزرنا پڑے ۔

Note: This Short story has been written by One of my friend, Mr. Aziz Azmi. This is a touching heart story to me, that's why I shared this story here in my Blog with Writer's Permission....... Thank You. 

Tuesday, November 20, 2018

SHORT STORY-01

SHORT STORY-01: EK UDAAS SAFAR

Written By: Aziz Azmi, Israuli, Sarai Mir

ایک اُداس سفر

دومہینے کی چھٹی کا آج آخری دن تھا اور بچوں کے ساتھ آخری ناشتہ بھی ، گھر کی دہلیز پار کی تو پھر دوسال بعد ہی لوٹونگا یہ سوچ کر آج آلو کے پراٹھے کا ذائقہ بھی سعودی عرب کے سوکھے خبز کی طرح لگ رہا تھا ،  روز کی طرح آج سب کے چہرے کِھلے ہوئے نہیں مُرجھائے ہوئے تھے ، آج گھر میں چہل پہل نہیں سب اداس تھے سوائے چھوٹے بیٹے کے جو ہاتھ میں غبارہ لئے کھیل رہا تھا جس کو ابھی یہ نہیں معلوم کہ ہجر کیا ہے ، پردیس کیا ہوتا ہے ، اپنوں سے بچھڑنے کا غم کیا ہوتا ہے وہ ان تمام باتوں سے ناآشنا ہاتھ میں غبارہ  لئے مجھ سے اس بات کی ضد کئے جا رہا تھا کہ میں بھی جہاز پر بیٹھونگا ، میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا میں اس کے معصوم سوالوں پر نادم ، اپنی مجبوریوں پر ماتم کناں دسترخوان پر بیٹھا اسے روٹی کے ٹکڑوں سے بہلا رہا تھا ، کھلونوں میں الجھا رہا تھا ، جیب میں پڑے چند سکے دیکر خوش کر رہا تھا لیکن آج وہ بھی اپنی ضد پر اسی طرح اڑا تھا جیسے میری مجبوری مجھے سعودی لے جانے پر اڑی تھی ، دل میں سوچ رہا تھا کاش میں اسکو اپنے ساتھ لے جا سکتا ، کاش میں جاتا ہی نہیں بچوں کے ساتھ ہی رہتا لیکن ہرخواہش کی تکمیل اور ہر خواب کی تعبیر کہاں ....  میرے ساتھ جڑے نصیب اور ذمہ داریوں کے بیچ جذبات کی گنجائش کہاں ...  اللہ کے فیصلے پر سر تسلیم خم اپنے جذبات کو ناشتے کے ہر نوالے کے ساتھ اتار رہا تھا اور ابھی ناشتے کی پلیٹ میں آخری لقمہ بچا ہی تھا کہ باہر ببلو کی کار ہارن بجاتے ہوئے مجھے لے جانے کے لئے آ پہونچی کار کی آواز میں اس قدر سوز اور ہارن میں ہجرت کی ایسی وحشت تھی کی آخری لقمہ حلق سے نا اتر سکا ، بیگ اٹھانے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا کونے میں کھڑی بیٹی کے اس سوال نے کی " ابو پھر کب آئینگے" دل کو چھلنی کر گیا ، میرا ضبط ٹوٹتا تو پاس میں کھڑی ماں ، بہن ، بیوی کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ پڑتا ، اپنے آنسووں کو پی کر ، غموں کو چھپا کر بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے زبان سے صرف اتنا کہہ کر باہر نکل گیا کہ جلد ہی ۔۔۔۔ بیٹی کو خوش رکھنے کے لئے میری زبان سے نکلا ہوا یہ ایک ایسا سفید جھوٹ تھا جس کو صرف میرا دل جانتا تھا ۔

اماں میرے سامنے تو نہیں روتیں لیکن میرے جانے کے بعد یہ کہہ کر رو پڑتیں کہ میرا بیٹا ہربار یہ کہہ کر سعودی واپس چلا جاتا ہے کہ یہ آخری سفر ہے لیکن ہر سفر پر ضرورت اپنا منھ کھولے ، ہاتھ پھیلائے ، سینہ تانے ایسے کھڑی ہوتی ہے کہ مجبور ہوکر پھر وہ اسی اداس سفر پر لوٹ جاتا ہے ، سعودی عرب کی کمائی سے گھر کی تنگی مٹی تو چھت کا سلیب باقی تھا ، سر پر چھت ہوئی تو جوان بہن کا نکاح باقی تھا ، بہن کا گھر بسا تو بھائی کی تعلیم باقی تھی بھائی پیروں پر ہوا تو باپ کا علاج باقی تھا  پرانی ذمہ داریوں کی تکمیل کے بعد تھوڑی سی مہلت ملی تو میرے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھایا کہ اماں اب یہ آخری سفر ہوگا ، دوسال بعد جب لوٹا تو ایک نئی ذمہ داری کو بالغ ہوتے دیکھ کر قَسم توڑ دی کی اماں بیٹی بڑی ہورہی ہے اسکے نکاح کے لئے پھر جانا ہوگا اس کی اس بے بسی اور قربانی پر کلیجہ پھٹ گیا کہ اس بار وہ حلوے کی جگہ صرف اپنی دوا لے گیا ، اچار کی جگہ صرف سیرپ لے گیا یہ کہتے ہوئے کہ اماں شوگر ، بلڈ پریشر اتنا زیادہ ہے کہ اب حلوے کی نہیں دوا کی ضرورت ہے میرے بیٹے کی اس تیس سالہ جدو جہد کے باوجود بھی نہ اس گھر کی ضرورت پوری ہو سکی اور نہ ہی میرے بیٹے کی آخری سفر کی حسرت ......

سعودی عرب جانے کے بعد گھر کی پوری کیفیت بیگم ہمیشہ مجھے لکھ بھیجتیں ، اس لئے مجھے پتا تھا کہ اماں اس بار بھی ہمیشہ کی طرح روئی ہونگیں ، بچے اداس ہونگے  ، میرے چھوڑے ہوئے سامان کو سمیٹتے ہوئے بیوی تڑپی ہوگی ، گاؤں ، گھر ، بیوی ، بچے ، اماں ، ابا کی انھیں تمام  باتوں کو یاد کرتے ہوئے کب بنارس پہونچ گیا پتہ ہی نہیں چلا  ایئرپورٹ پہونچ کر سامان کو لگیج میں ڈالنے کے بعد کسٹم آفیسر کے سامنے پاسپورٹ لیکر کھڑا ہوا اور وہ اپنے چشمے کے اُوپر سے مجھ پر ایک تحقیقی نظر ڈالتے ہوئے  پاسپورٹ پر اس شدت سے مہر لگائی جیسے کسی جج نے ایک لبمی سنوائی کے بعد سزا سناتے ہوئے اپنی قلم توڑ دی ہو اور اس آخری مرحلے اور فیصلے کے بعد واپسی کے سارے راستے بند ہو گئے ہوں ایک سزا یافتہ مجرم کی طرح ہاتھوں میں پاسپورٹ اُٹھائے بوجھل قدموں سے فلائٹ میں جا بیٹھا ، ملک چھوڑنے سے پہلے جیو سم سے آخری فون کرتے ہوئے بیگم اور اماں کو خدا حافظ کہتے ہوئے سیٹ بیلٹ باندھ لیا لیکن بیگم کا آنسووں میں بھیگا ہوا لہجہ اور اماں کی بیٹھی ہوئی آواز یہ ثابت کر گئی کہ ہجرت ۔۔۔  وقت کا دیا ہوا ایسا  زخم ہے جو بھر بھی جائے تو اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے ۔ کیونکہ ہجرت ہمیشہ وجود کی ہی ہوا کرتی ہے دل اور رشتے کبھی ہجرت نہیں کرتے یہ اپنی زمین ہی میں پیوست رہتے ہیں بلکہ ہجرت کے بعد ماں ، باپ ، بیوی ، بچے گھر بار ، گاؤں ، ملک سے محبت کا رشتہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے ، اور اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ گلی کا وہ پتھر بھی عزیز لگتا ہے جس سے انگلیوں کو ٹیس لگی ہوتی ہے۔

سعودی عرب پہونچتے ہی آنکھو کی ساری رنگت سارے نظارے ساری ہریالی صحرا میں بدل گئی ، پھر سے وہی زندگی شروع ہوئی جسے چھوڑ کر گیا تھا عربیوں کی وہی تعال و سرعۃ ، وہی دال و کبشہ دو سال کا مقدر بن گیا پورا ہفتہ تو کام میں گزر جاتا لیکن جمعۃ کو روم کی تنہائی ڈسنے لگتی ، آج شام کو بچوں کی اس قدر یاد آئی دل ایسا گھبرایا کہ روم سے باہر نکلا اور سمندر کے کنارے جا بیٹھا کہ شاید سمندر کی لہروں میں کھو کر کچھ غم کو ہلکا کر سکوں ..

شام ڈھل چکی تھی ۔۔۔۔ اس اداس شام میں سمندر کے کنارے ریت پر بیٹھا سمندر کی لہروں کو ساحل پر سر پٹکتا دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ بھی میری طرح غم تنہائی کا ماتم  اور ہجر کا شکوہ کر رہی ہیں ۔۔۔ یہ بھی پردیسی مسافرکی طرح سمندر میں میلوں کا سفر طے کرکے موجوں سے لڑتے ہوئے ساحل سے ٹکراکر اپنا وجود اسی طرح خاک میں ملا رہی ہیں جس طرح ایک پردیسی سات سمندر پار آکر مجبوریوں اور ضرورتوں سے لڑتے ہوئے اپنا وجود مٹی میں ملا دیتا ہے ، ساحل پر سر ٹکراتی ان لہروں اور ہواؤں سے اٹھنے والی آواز میں ایسا سوز و غم تھا جیسے کوئی ماں اس درد سے کراہ ہی ہو جسکے بے گناہ بیٹے کو زعفرانی بھیڑ نے پِیٹ پِیٹ کر مار دیا ہو ۔

سوچا تھا ساحل سمندر جاکر اسکی ٹھنڈی ہواؤں اور اسکی بل کھاتی لہروں سے لطف اندوز ہوکر غمِ تنہائی کو کچھ کم کر سکونگا  لیکن یہاں کی اداس شام اور سرپٹکتی لہروں نے میرے غم کو اور بڑھا دیا گھبرا کر وہاں سے اٹھا روم پر واپس آیا بیوی کو فون لگایا تو چھوٹا بیٹا ابو ۔۔۔ ابو کہہ رو رہا تھا گھر سے نکلتے وقت ایک جھوٹ بیٹی سے بولا تھا کہ جلد ہی آونگا اور اب دوسرا جھوٹ بول کر بیٹے کو بہلا رہا ہوں کہ بازار سے آپ کے لئے کھلونا لینے آیا ہوں اس معصوم نے میرے اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر اپنا آنسو پوچھ لیا اور آج  وہ ایک سال سے میری راہ تکتے ہوئے اپنے کھلونے کے انتظار میں بیٹھا ہے باہر رکنے والی ہر گاڑی کی طرف دوڑ کر آتا ہے اور پھر مایوس واپس لوٹ جاتا ہے اور وہ باپ ہے کہ لوٹنے کو تیار نہیں ، معصوم بیٹے کی مایوس آنکھوں کو سوچ کر دل خون کے آنسو روپڑتا ہے ، ہائے رے مجبوری کہ بیٹا جھوٹ کو سچ مان کر کھولنے کے انتظار میں دوسال گزار دیتا ہے اور باپ اپنی مجبوری ۔۔۔۔   اس بار جب گھر گیا تو سعودی عرب کی تپتی ریت اور بیماریوں نے اس قدر نچوڑ لیا تھا کہ آنے کی ہمت نہ کر سکا ۔
 جو کسی سے نہیں ہارتا وہ دُکھ سے ہار جاتا ہے ، مہنگی دوائی ،  بڑھتی مہنگائی  کے مد نظر لوگوں نے علاقائی روایت کے مطابق مجھے بھی یہی مشورہ دیا کہ بیٹے کو ڈرائیونگ سکھاو اور سعودی عرب بھیج دو لیکن سعودی سے نکلتے وقت میں اس روایتی کشتی کو اس خوف سےجلا کر آیا تھا کہ میرے بعد کہیں یہ کشتی میرے بچوں کے ہاتھ نہ لگ جائے اس لئے اب  پردیس لوٹنے کا تو کوئی سوال نہیں تھا لیکن مجبوری اور ضرورت  پھرکہیں میرا ایمان نہ توڑ دے اس خوف سے پھرمیں نے اپنے عزم کو چٹانوں سی مضبوطی دی سعودی جانے والے مشورے اور خیال کو اپنے دل و دماغ سے کُھرچ کر نکال دیا ، بیماریوں اور پریشانیوں سے سمجھوتا کیا ، ضروریات کو کم کیا ، بیٹے کی تعلیم کو فوقیت دی اسکو ہر چیز پر مقدم رکھا اور جب وہ میڈیکل کے بعد دہرادون سے میڈیکل آفیسر بن کر گھر لوٹا تو سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا میری ساری قربانیاں، پریشانیاں بیٹے کی کامیابی کے آگے چھوٹی ہوگئیں ۔ اس وقت  اگر میں اپنی وقتی پریشانیوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بیٹے کو تعلیم کے بجائے ڈرائیوربنا کر سعودی عرب بھیج دیا ہوتا آج وہ بھی میری طرح کسی سمندر کے کنارے بیٹھ کر اپنی مجبوری اور تنہائی کا شکوۃ کرتا ، بیوی ، بچوں کی محبت و قربت سے دور شب تنہائی کاٹتا اور پھر آخیر عمر میں گھر بیٹھ کر اپنی قسمت کا رونا روتا ، یہ با عزت تعلیم یافہ اور پرسکون زندگی اس کا مقدر نہ بن پاتی ۔

Note: This Short story has been written by One of my friend, Mr. Aziz Azmi. This is a touching heart story to me, that's why I shared this story here in my Blog with Writer's Permission....... Thank You.